ین الاقوامی قانونی مسائل پر پاکستانی قانون کا موقف
الف۔ آئینی دفعات
- 1973 کے آئین کا آرٹیکل 1(1) پاکستان کو ایک خودمختار ریاست قرار دیتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی قانون خود بخود لاگو نہیں ہوتا جب تک کہ اسے داخلی قانون میں شامل نہ کیا جائے۔
- آرٹیکل 40 دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیتا ہے، جو بالواسطہ طور پر بین الاقوامی قانونی اصولوں کی پاسداری کی ترغیب دیتا ہے۔
- آرٹیکل 70 (خارجہ امور) وفاقی حکومت کو معاہدات کرنے کا اختیار دیتا ہے، لیکن ان کا نفاذ پارلیمانی توثیق پر منحصر ہے۔
ب۔ عدالتی تشریح
پاکستانی عدالتوں نے دوہرا نظریہ (Dualist Approach) اپنایا ہے، یعنی بین الاقوامی معاہدات (مثلاً ICCPR, CEDAW, UNCLOS) کو نافذ کرنے کے لیے داخلی قانون سازی ضروری ہے۔ اہم کیسز میں شامل ہیں:
- شہلا ضیا بمقابلہ واپڈا (1994 PLD SC 693) – سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ماحولیاتی قانون کے اصولوں کو تسلیم کیا۔
- بینظیر بھٹو کیس (1988 SCMR 416) – یہ تسلیم کیا گیا کہ غیر شامل شدہ معاہدات قابل سماعت حقوق پیدا نہیں کرتے۔
ج۔ پاکستان میں بین الاقوامی قانون پر بحث
- پاکستانی عدالتیں اور قانونی اسکالرز اکثر بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، مہاجرین کے قانون (افغان مہاجرین)، اور دہشت گردی کے خلاف قوانین پر بحث کرتے ہیں۔
- تاہم، خودمختاری کے تحفظات بین الاقوامی اصولوں کے مکمل انضمام کو محدود کرتے ہیں، خاص طور پر متنازعہ مسائل جیسے کشمیر، ڈرون حملے، یا ICC کی دائرہ کار پر۔
2. بین الاقوامی قانون کے تناظر میں
الف۔ معاہدات اور بین الاقوامی عرفی قانون
- پاکستان بڑے معاہدات (جنیوا کنونشنز، ICCPR, ICESCR) کا فریق ہے لیکن شریعت سے متصادم دفعات پر تحفظات رکھتا ہے۔
- بین الاقوامی عرفی قانون قابل اعتماد ہے لیکن اس وقت تک پابند نہیں جب تک کہ داخلی عدالتوں نے اسے تسلیم نہ کیا ہو۔
ب۔ بین الاقوامی تنازعات کا حل
- پاکستان اقوام متحدہ کے اداروں، ICJ، اور WTO کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار میں شامل ہوتا ہے لیکن اکثر “داخلی معاملات” (مثلاً UNSC میں کشمیر) میں بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔
- بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کا کل بھوشن جادھو کیس (2019) نے پاکستان کا بین الاقوامی عدالتوں کے ساتھ محتاط تعاون کو ظاہر کیا۔
ج۔ عالمی فورمز پر بحث
- پاکستان OIC, SAARC, اور اقوام متحدہ میں اسلاموفوبیا، ماحولیاتی انصاف، اور تجارتی قوانین پر بحث میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔
- تاہم، جغرافیائی سیاسی اتحاد (مثلاً چین-پاکستان اقتصادی راہداری بمقابلہ امریکی پابندیاں) اس کی قانونی سفارت کاری کو متاثر کرتے ہیں۔
3. تقابلی جائزہ: پاکستان بمقابلہ عالمی رجحانات
| پہلو | پاکستان کا موقف | عالمی رجحان |
|---|---|---|
| معاہدات کی توثیق | دوہرا نظام؛ قانون سازی ضروری | بہت سے ممالک یکسانیت (براہ راست نفاذ) پر عمل کرتے ہیں |
| انسانی حقوق | مذہبی بنیادوں پر تحفظات | عالمگیر قبولیت میں اضافہ |
| خودمختاری پر بحث | غیر مداخلت کی مضبوط وکالت | ICC/UNSC کی بڑھتی ہوئی مداخلت |
4. اختتامیہ اور تجاویز
اگرچہ پاکستانی قانون بین الاقوامی قانونی اصولوں کو اپنانے میں محتاط ہے، لیکن عالمی وابستگی زیادہ فعال مشغولیت کا تقاضا کرتی ہے۔ تجاویز میں شامل ہیں:
- قانونی اصلاحات – منظور شدہ معاہدات کو داخلی قانون میں شامل کرنے کی رفتار تیز کی جائے۔
- عدالتی تربیت – عدلیہ کی بین الاقوامی قانون کی تفہیم کو بڑھایا جائے۔
- سفارتی مشغولیت – خودمختاری اور عالمی معیارات کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔
بین الاقوامی قانونی چیلنجز کے موجودہ دور میں، پاکستان کو اپنی دوہری روایت کو برقرار رکھتے ہوئے بین الاقوامی قانونی مکالمے میں تعمیری کردار ادا کرنا ہوگا۔
— محمد رفیق، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
